زور آزمائی
معنی
١ - طاقت دکھانا، طاقت کا مظاہرہ کرنا، قوت کا اظہار۔ "بعض مفسرین اور . حافظ ابن قیم کے خلاف زور آزمائی کرنی چاہیے۔" ( ١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٤٤١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زور' کے ساتھ فارسی صفت 'آزما' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'زور آزمائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٥ء کو "کلیات شیفتہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - طاقت دکھانا، طاقت کا مظاہرہ کرنا، قوت کا اظہار۔ "بعض مفسرین اور . حافظ ابن قیم کے خلاف زور آزمائی کرنی چاہیے۔" ( ١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٤٤١ )